فلسطینی ریاست کے قیام کا وقت آ ن پہنچاہے؟
                                                ڈاکٹرمحمدغطریف شہبازندوی ٭

رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں نتن یاہونے فلطسطین پر جارحیت کرکے ایک تیرسے کئی نشانے لگانے کی کوشش کی اوربظاہروہ کامیاب رہا،اس نے امریکہ کی نئی حکومت کوکوئی متوازن پالیسی اختیارکرنے سے پہلے ہی مجبورکردیاکہ وہ یک طرفہ طورپر اسرائیل کے ساتھ کھڑی ہوجائے۔کیونکہ مغربی میڈیانے اس اسرائیلی جارحیت کویک طرفہ طورپر اسرائیل پر حماس کے راکٹ حملوں کا ردعمل قراردیاہے جس سے بڑاجھوٹ کوئی ہونہیں سکتا۔نتن یاہوکے گندے کھیل میں شامل ہوکرایک اسرائیلی عدالت نے القدس کی ابوعبیدہ جراح مارکیٹ میں سینکڑوں سال سے رہنے والے فلسطینیوں کویہ کہ کراخراج کا حکم سنادیاکہ یہ جگہ تویہودیوں نے سترسال پہلے خریدلی تھی۔اس نامنصفانہ فیصلہ پراحتجاج شروع ہوا۔اسرائیلی پولیس نے زبردستی ان مظاہرین کوماراپیٹاتووہ جانیں بچانے کے لیے الاقصی کمپاونڈمیں چلے گئے۔جہاں ان پر یہودی سیٹلرز(ناجائزآبادکار)اورپولیس والوں نے حملے کیے۔اس وقت یہودیوں کی مذہبی تقریبات جاری ہیں جن کے چلتے یہودی زائرین بڑی تعدادمیں دیوارگریہ (مسجداقصی سے متصل)پہنچتے ہیں۔ان زائرین اورسیٹلرزکا اقصی کے محافظین سے تصادم ہوا۔اسرائیلیوں کی نیت اس لیے مشکوک ہے کہ انہوں نے کئی بارمسجداقصیٰ کونقصان پہنچایاہے یہاں تک کہ اس کوجلانے کی کوشش بھی کرچکے ہیں جس میں انہوں نے منبرصلاح الدین کوجلادیاتھا۔
ان حقائق کے پیش نظرموجودہ تنازعہ میں جارح فریق اسرائیل ہے جیساکہ وہ اکثررہتاہے مگرمغربی میڈیااوردنیاکا چودھری امریکہ اس کواسرائیل کا خودکودفاع کاحق قراردیتاہے!پڑوسی عرب ممالک مصراورجارڈن اگربروقت نوٹس لیتے اوراسرائیل کوسخت تنبیہ کرتے توشایدبات اتنی آگے نہ بڑھتی۔
اب صورت حال یہ ہے کہ پندرہ سال سے معاشی بائکاٹ کی مارجھیل رہا چھوٹاساغزہ کا علاقہ جوکل مقبوضہ فلسطین کا چھ فیصدہوتاہے۔(واضح رہے کہ اقوام متحدہ نے جب انیس سواڑتالیس میں فلسطین کودوحصوں میں تقسیم کرکے اسرائیل بنادیاتھااس وقت یہودیوں کے پاس صرف چھ فیصدعلاقہ تھا)اسرائیل کے فوجی ایکشن کی مارجھیل رہاہے۔چاروں طرف سے اسرائیلی آرمی نے اس کوگھیررکھاہے۔ٹینکوں اورتوپوں کے دہانے کھلے ہوئے ہیں۔مختلف عمارتوں کومیزائیلوں سے اڑایاجارہاہے۔صحافت اورطبی سہولیات پر حملے ہورہے ہیں۔غازہ کی بجلی کی لائنیں کاٹ دی گئیں ہیں پوراعلاقہ اندھیرے میں ڈوباہے۔عوام کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔اب تک معصوم بچوں سمیت 250لوگ شہیدہوچکے ہیں جن میں زیادہ ترمعصوم شہری ہیں۔ہزاروں فلسطینی زخمی ہیں جنہیں صحت کی سہولیات بھی حاصل نہیں۔ساتھ ہی ساٹھ ہزارفلسطینی بے گھرہوچکے ہیں۔ان تمام مظالم کوبرداشت کرتے ہوئے بھی فلسطینی قوم نے جھکنے سے صاف انکارکردیاہے اوریہی ان کی فتح کی واضح نشانی ہے۔محمودعباس کی الفتح اپنی معنویت تقریباًکھوچکی ہے۔اب صرف حماس ہی فلسطینی مزاحمت اور امنگوں کی ترجمانی کررہی ہے۔حماس نے اب تک تہور،شجاعت اورپامردی سے مقابلہ کیاہے۔مصرنے اب رفاہ بارڈرکھول دیاہے اوراردن کے لوگ بھی امدادی کام کررہے ہیں۔تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ لڑائی اصلاًجذبات سے نہیں بلکہ برترٹیکنالوجی،برترعسکریت اورتزویراتی میدان میں لڑی جانی ہے۔اوراس پیمانہ پر اسرائیل اورحماس میں کوئی مقابلہ نہہں۔لوگ کہتے ہیں کہ اسرائیل اتناچھوٹاساملک ہے اس کے آس پاس اتنے سارے عرب ممالک کیوں اس کا کچھ نہیں بگاڑسکتے؟اصل میں اسرائیل اکیلانہیں امریکہ اوریورپ اس کے ساتھ ہمیشہ کھڑے رہے ہیں ورنہ تنہامصرنے عربوں کی پے درپے تین ذلت آمیزشکستوں کے بعد1973میں ثابت کردیاتھاکہ اسرائیل ناقابل تسخیرنہیں۔
آفرین ہے کہ حماس نے ہزاروں راکٹ اسرائیل پر فائرکیے ہیں جن میں سے بیشترکواسرائیل کا دفاعی سسٹم (آئرن ڈوم)ناکارہ کردیتاہے۔ان سے کوئی نقصان نہیں ہوتامگرنفسیاتی پریشرضرورپڑتاہے۔یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی اموات دس بارہ سے زیادہ نہیں پھربھی مغرب اس کے حملوں کوجوابی اوردفاعی کارروائی قراردیتاہے!
بلاشبہ حماس کی اس حوالہ سے تعریف کی جانی چاہیے کہ وہ یہ سمجھ چکے ہیں کہ یہ جنگ ان کی اپنی جنگ ہے جس کوانہیں خودہی لڑناہے۔اس سلسلہ میں نہ نام نہادعالمی برادری ان کی کوئی مددکرسکتی ہے نہ مزعومہ امت مسلمہ!(حقیقت تویہ ہے کہ امت مسلمہ نام کا کوئی متحدسیاسی وجودموجودنہیں وہ ایک منتشرانبوہ ہے)زیادہ رعایت دی جائے توکہاجاسکتاہے کہ وہ ایک روحانی وجودہے جودنیاکے مسلم عوام کی صورت میں ہے اوراس حیثیت میں اس کی ایک قیمت ہے۔لہذااوراوآئی سی کی اپنی حیثیت موجودہ دنیامیں ایک کاغزی وجودسے زیادہ کچھ نہیں لہذااس سے کوئی امیدرکھنااحمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔
رہی عرب امت عرب یاعرب ممالک تووہ سب بکھرے ہوئے ہیں۔ان کے عوام کے دل یقینافلسطینیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں مگرحکمراں سب کے سب اپنی کرسیوں اورمفادات کے اسیرہیں۔سب کے دل پھٹے ہوئے ہیں۔بلکہ زیادہ تربڑی طاقتوں کے ہاتھ کا کھلوناہیں اورسچ تویہ ہے کہ ان غریبوں کو(چھوٹی چھوٹی ریاستوں اورجاگیروں کے یہ کھلونے)دیے بھی برطانیہ عظمی اوردیگرطاقتوں نے ہی۔یہ سب مسئلہ فلسطین کوحل کرنے میں کوئی دل چسپی نہیں رکھتے۔بلکہ تاریخ تویہ ہے کہ عرب حکمرانوں کے غلط اورجذباتی فیصلوں نے ہی معاملہ کویہاں تک پہنچادیاہے۔اسرائیل نے ذہنی طورپر عرب ممالک کویہ باورکرادیاہے کہ،، ہم سب اس کا کچھ نہیں بگاڑسکتے لہذااس سے تعلقات استوارکرنے میں ہی بھلائی ہے“۔بہرحال اب وہ تاریخ کا حصہ ہے جس کودہرانے کا کوئی فائدہ نہیں۔
موجودہ تنازعہ میں ترکی،ایران،ملائشیااورپاکستان کا رول قابل ستائش ہے۔ترکی اگرفلسطینیوں کے تحفظ کے لیے کوئی فوج تشکیل دے سکاتویہ بڑی بات ہوگی!مگرموجودہ دنیامیں ایساممکن نہیں لگتا۔البتہ ایک حل یہ سمجھ میں آتاہے کہ اس وقت صحیح موقع ہے کہ فلسطین کویک طرفہ طورپر آزادی کا اورخودمختارفلسطینی ریاست کے قیام کا اعلان کردیناچاہیے جس کوترکی،سعودی عرب،ملائشیا،ایران اورپاکستان فی الفورتسلیم کرلیں۔اوریہ سب ممالک مل کرکوشش کریں کہ اقوام متحدہ اورباقی دنیابھی اس کوتسلیم کرے۔حماس اوراسلامی جہادوغیرہ تنظمیں مجوزہ فلسطین کی فوج میں شامل میں ہوجائیں اوربطورملیشیااپناوجودختم کرکے اپنی نئی ریاست کوترقی دینے میں اپنی توانائیں لگائیں۔اس طرح اسرائیل بارباراس پرجارحیت بھی نہیں کرسکے گا۔حکمت ودانش سے ہی اسرائیل سے لڑاجاسکتاہے۔ ترکی،ایران اورپاکستان سردست بیرونی جارحیت کے نتیجہ میں اس نئی ریاست کی حفاظت کی ذمہ داری بھی لے سکتے ہیں۔ جہاں اورآپشن اختیارکیے گئے ہیں وہیں اس تجربہ کوبھی کرکے دیکھاجاسکتاہے۔
؎ شایدکہ اترجائے ترے دل میں مری بات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٭ رسرچ ایسوسی ایٹ مرکزتعلیم وثقافت مسلمانان ہندعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
Theme Kantipur Blog by Kantipur Themes
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x